New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|New Batch Starting October 2026 - Experience our teaching first-hand|
Back to Blogs
ARTICLE
9 MIN READ
Sep 6, 2026

Walidah Ka Safar E Hajj

Walidah Ka Safar E Hajj

والدہ ماجدہ کےسفر حج

(حج ۲۰۰۴ و حج ۲۰۱۷ )

(دوسری قسط)

مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو

لوٹ پیچھے کی طرف ائے گردش ایام تو

علامہ اقبال

اقبال دانا نے تصور وخیالات کو آواز دی کہ گذرے ہوئے دن اور گذرے ہوئے ماہ وسال اور گذری ہوئی زندگی کی یادیں زندہ کردے ، کیوں ؟ ناسمجھی اور ناقدری ، درد واذیت اور کلفت ومصیبت کی یاد تازہ کرنے کے لئے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ صبح وشام بہتر کام اور خوشگوار صبح اور سنہری یادوں سے وابستہ ہیں۔پچھلی زندگی ہر ایک کو معلوم ہے اور اس سے ہر کو اپنے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوتا ہےکہ کس نے گذرےلمحوں کی قدر دانی کرکے گذارا،اورکس نے گنوایا۔ اقبال زمانہ شناس تھے تو ان ہی خوشگوار ویادگار دنوں کو یاد کرتےہیں ۔ والدہ ماجدہ کی یاد اس لئے رہ رہ کر آتی ہےکہ وہ ماضی کےحسین صبح وشام کے ساتھ ذہن ودماغ میں زندہ ہیں، ان کی ممتا کی گھنی چھائوں میں گذارےہوئے دن ومہینے اور سال ایک ایک کرکے ان کی یاد دلاتے ہیں،اور ہمارا تجربہ کہ کوئی دور جاکر تڑپتا ہےاو رکوئی دور ہونے سے تڑپتا ہے،کوئی بچھڑنے کے بعد روتا ہےاور کوئی دوریوں کو محسو س کرکے آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پاتا،ہر ایک میں بہت فرق ہے ، انتقال کے بعد لوگوں کوافسوس ودکھ کرتےہوئے دیکھا ہوگا کہ جیتے جی قدر نہیں کی ،والدین کے ساتھ حسن سلوک ومحبت نہیں کی ، زندگی میں ان کے قریب نہیں رہ سکے ،ان کو وقت نہیں دے سکے، ان کےلئےاپنے آپ کو فارغ نہیں کرسکے،ان کو زندگی میں سمجھ نہیں سکے ،یہ احسا س ہونا بھی زندہ ضمیری کی علامت ہے،اس سے بھی اپنی غلطی کو درست کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے ،لیکن کسی کا ضمیر ہی مردہ ہوجائے تو زندوںکی تو جنازہ نہیں پڑھی جاتی ،راقم الحروف کی یادیں زندگی کا سرمایہ ہیں،ان کی محبتوں کے زیر سایہ بیتے ہوئے لمحے زندگی کا قیمتی اثاثہ اورایک ایک کام ذخیرہ آخرت ہیں۔والدین کے حقوق کوئی ادا کیا ہےاور نا ہی کوئی کرسکتا ہے اور نا ہی کوئی ادا کرپائے گا، آج میری امی زندہ نہیں ہیں لیکن ناقدری کا ایسا کوئی دکھ وغم،احسان ناشناسی کا کوفت وملال نہیں ہے،اور ایسا پچھتاواوقلق نہیں کہ آج کاش والا لفظ کہوں۔قدردانی ونعمت شناسی کی ہر ممکن کوشش کی ، الحمد للہ ،ایک قلمکار کے اعتبارسے میرے والدین محترمین میری ہر کتاب کے انتساب نامہ اور مقدمہ میں موجود ہیں،اوروالدہ ماجدہ سے وابستہ واقعات ویادوں کےلئے ایک کتاب درکار ہےاور اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نےوالدین محترمین کی زندگی ہی میں۱۶۰ صفحات پر مشتمل ایک تاریخی کتاب۹ برس قبل لکھوادی،جس کا نام’’ رحمان کے مہمان‘‘ ہے۔اور شاید ان ہی کی برکت و دعاسے یہ کتاب دنیا بھر میں مقبول ہوئی ،حج وعمرہ جیسے مبارک سفر کے حوالے سے ہر سال اللہ کے مہمانوں کے حج وعمرہ کے سفر میں رہبری کے کام آتی ہے۔ اور قلم نے والدین نامے لکھنے کی سعادت ،لکھنے کے اولین دنوں ہی سےپائی ہے، الحمدللہ

والدہ ماجدہ پر اللہ تعالی کے بے شمار احسانوںکا ذکر چھڑا ہے،تو ان بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت جو والدہ ماجدہ کو بخشی وہ اپنے گھر کے دیدار اور رسول اللہ ﷺ کے مبارک شہر وروضہ اقدس پر حاضری کی سعادت سے دو مرتبہ مالا مال فرمایا،اور میرے لئے یہ سعادت بخشی کہ ان دونوں مقد س موقعوں پر ساتھ رہا، پہلا حج ۲۰۰۴ میں ہوا ، اوردوسرا ۲۰۱۷ میں،اس حج میں والدین محترمین کے ساتھ اہلیہ بھی رفیق سفر تھیں۔ ۲۰۰۴ میںپہلے مدینہ منورہ حاضری ہوئی تھی بعد میں حج ہوا ، تو اس وقت کی یادوں میںسےہے کہ بالکل صبح کا اولین وقت تھا، فجر سے پہلے کی گھڑیاں تھیں،رات چھٹ رہی تھی، دن کا اجالا ہورہا تھا، موسم بالکل ٹھنڈا تھا، ہوائی جہاز کی کھڑکیاں سردموسم سے شبنم وکہرسےمدھم تھیں،ہمارےہوائی جہاز کو لینڈنگ کی اجازت نہیں مل رہی تھی وہ فضائوں میں گھوم رہا تھا اورجیسے جیسے وہ مدینہ منورہ کی سرزمین سے قریب ہورہا تھا ، شہر مدینہ چمکتا دمکتا جھل ملا رہا تھا ، اس کی روشنیاں ایک عجیب سماں پیدا کررہی تھیں، زندگی میں ہوائی جہاز کا یہ پہلا سفر تھا ،جب اس نے مدینہ منورہ کے ایر پورٹ پر لینڈ کیا تو جان میں جان آئی ، اور پھر والدین محترمین کی چہروں پر جو خوشی تھی وہ دیدنی تھی، اتنےخوش وسرشار تھےکہ اس کیفیت کے بیان کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ صبح مدینہ ایک یادگار صبح مدینہ ہے۔ وہ لمحے رشک زندگی ہیں۔ ان لمحات کے مناظر حسین یادیں ہیں ۔

حج ۲۰۰۴ کی بہت سی یادیں ہیں، بہت سارےواقعات ہیں، لیکن صرف چند واقعات بیان کروں گا، ۸ ذی الحجہ کو فجر سے پہلے تیاری اور فجر کے بعد منی روانگی کا اعلان لگا تھا اور حسب حکم والد صاحب نے بلڈنگ ہی میں نمازپڑھنے کے بعداحرام کے ساتھ سامان ریسپشن پر پہنچاکر وہیں صوفےپر والدہ ماجدہ کو اور مجھے بٹھادیا تھا، فجر کے بعد سے بس کا انتظار شروع ہواتو بس آتے آتےپورے۱۱ بج گئے اور بھیڑ اتنی زیادہ ہوگئی کہ ہماری بلڈنگ کے تقریبا ۵۰۰ حاجی ایک بس میں سوار ہونے کے لئے لڑنے لگے،اور اس موقعہ پر ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ ایک بوڑھے حاجی بے قابوہوکر ایک بس کے سامنے ایک بوریا بچھاکر لیٹ گئے کہ اس بس میں سوارکروادویاپھر بس میرے اوپر سےچلادو،لوگوں نے منت سماجت کرکےان کو منایا، ایسے وقت میں دھکم پیل ہوئی والدصاحب کو جگہ مل گئی لیکن والدہ اور میں بس میں سوار نہ ہوسکے۔ اس زمانہ میں موبائل بھی نہیں تھا،جو پریشانی ہوئی بس اللہ ہی جانتا ہے،والدہ پوچھتیں کہ کیا ہوا، بس تسلی دیتا اور کہتاکہ آپ دعا کریں ان شائ اللہ کچھ نہیں ہوگا ، ہم لوگ بھی خیریت سے منی پہنچ جائیں گے۔ اب ووسری بس کے انتظارمیں رہے اور تقریبا شام ۴ بجے والدہ کے ساتھ منی پہنچا۔

مکہ مکرمہ کی بلڈنگ میں کھاناپکانے کا انتظام تھا، ہمارے روم کے تقریبا ۸حاجی تھے، تین فیملیز تھیں، تو وہ باری باری کھانا بناتے تھے،اور ہم ایسےوقت کھانا بناتے تھے کہ کوئی اور فیملی نہ ہو،چاول اور سالن تو والدہ خودبنالیتی تھیں خاص طورپرروٹی بناناہوتا تو والدہ ماجدہ روٹی بناکر دیتیں اور میں روٹی سینکتاتھا، زندگی میں کھانا پکانے کا کوئی تجربہ تو تھا نہیں ،مکہ مکرمہ میں یہ پہلا موقعہ ملاتھاتو روٹیاں کچی پکی رہ جاتی تھیں، یا پھر کبھی کبھی جل بھی جاتی تھیں،والدین محترمین کبھی اس کا برا نہیں مانتے تھے،البتہ میں نےوالدہ ماجدہ سےکہا تھا کہ کھانابنانے میں جو چرکے لگتے ہیں،اور جو ہاتھ جلتے ہیں،جو تکلیف ہوتی ہے، وہ ہر کھاناپکانےکے وقت ہوتی ہے اور شاید اللہ تعالی ان چیزوں سے ہمارے چھوٹےچھوٹے گناہ معاف کردیتا ہوگا۔

حج ۲۰۰۴ میں ابا نے یہ معمول بنایا تھا کہ ایک دن میری ذمہ داری ہوتی کہ میں والدہ کےساتھ رہوں اور ان کے ساتھ طواف کروں ، اور دوسرے دن والد صاحب ہوتے، اس میں بڑی عافیت او ر سہولت بھی تھی کہ انفرادی عبادات جی بھر کی ہوتی تھیں اور ہر دن عصر کے بعد کعبہ کے صحن میں تینوں مل کر چائےنوشی کرتے تھے ۔کعبہ کےبیرونی علاقے میں ایک پرسکون جگہ بیٹھک ہوتی تھی، ایک دن خاص طور پر کعبہ کے دروازے کے پاس پہنچ کر والدہ ماجدہ سے پورے خاندان کے لئے دعاکی گذارش کی ،دادیال ونانہیال اور سبھی کےلئے دعا ہوئی،سارے بھائی بہنو ںکے لئے اللہ کی بارگاہ میں والدہ نے پرسوز انداز میں دعا کی، وہ کعبہ کے دروازے پر آگےتھیںاور میںان کے پیچھے کھڑاتھا، جب نام بنام انہوں نے دعا کی تھی، تواس موقعہ پرچوں کہ ابھی کوئی ذریعہ معاش اورجاب نہیں تھا تو والدہ سے اپنی آمدنی ، او رذریعہ معاش کے لئے ایک دعا کی گذارش کی اور اللہ تعالی نےوہ دعا ان کی زندگی میں پوری بھی فرمادیا، الحمد للہ ۔ ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک دن ابا اور میں دونوں طواف کرنے چلے گئے اور والدہ ماجدہ کو کعبہ کے اندورنی صحن میں ایک جگہ نشان دہی کرکے بٹھادیاکہ آپ یہیں رہیں ہم لوگ طواف کرکے آتے ہیں،جب واپس آئے تو والدہ اس جگہ نہیں تھیں، دونوں نے تلاش کرنا شروع کیا ، ڈھونڈتےڈھونڈتے خواتین کےایک مجمع میں ملیں ، وہ بیٹھیں ان کے ساتھ رورہی تھیں ، پوچھنے پر کہنے لگیں کہ قریب میں خواتین کا ایک مجمع دکھا تو چلی آئی اور یہاں دیکھا کہ دعا کررہی ہیںاورگڑگرارہی ہیں تو میں بھی یہیں بیٹھ گئی کہ ان کے ساتھ دعا تو ہورہی ہے۔اسی سفر میں یہ بھی واقعہ ہواکہ والدصاحب نے سعودی ریال سب کے پاس رکھ دیئے کہ کبھی کوئی گم جائے یا ضرورت پیش آئےتو خرچ کرے،ایک دن والد صاحب نے پوچھاکہ پیسے کتنےہیں تو انہوں نے بتایاکہ وہ حرم میں کسی خاتون کو صدقہ دیں والد صاحب نےپوچھاکہ کتنے ریال ، انہو ں نے کہا کہ ۵ ریال جب رقم گنی گئی تو ۵۰ ریال کم تھے۔وہ ۵۰ ریال کو ۵ ریال سمجھیں۔اس کے علاوہ کوئی خرچ نہیں کیا ،اوران کا یہ جملہ تو کیا کہنے ، کعبہ کا طواف کرتےہوئے لوگ بلند آواز میں دعائیں کرتے ہیں، عربی میں دعائیں پڑھاتے ہیں، بلکہ حج۲۰۰۴ میں مطوف یا مطوع یعنی طواف کرانے والےبھی ہوتےتھے اور ہمارا پہلے عمرہ کا طواف بھی ایک مطوف نے کروایا تھا اور اس نے ہمیں عربی دعائیں پڑھائی تھیں، طواف میں دعا کرنے کا یہ طریقہ آج بھی موجود ہے، والدہ ماجدہ نے کہا تھا کہ بیٹے طواف میں ہم کیا دعا کرریںباربار بھول بھول جاتے ،ادھر سےکوئی دعا کررے ادھر سے کوئی دعا کررےہم ہماری دعا ہی بھول جارے،ہم ان کی دعا پر آمین آمین بولدیئے تو بھی ہمارا کام ہوجاتا۔

حج ۲۰۰۴ میں والدین محترمین کے ساتھ حرمین شریفین میں اللہ نے ساتھ رکھا اور حاضری کا موقعہ عنایت فرمایا، اور حج ۲۰۱۷ کا تو پورا تفصیلی سفر نامہ موجود وگواہ ہے ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس نے والدین محترمین کے ساتھ ریاض الجنہ میں رفاقت بخشی ،تو جنت میں بھی والدہ کی رفاقت بخشے گا۔دنیا میں ایسے مقد س ومبارک مقام پر والدین کے طفیل پہنچایا ہے تو ان کی دعائووں کے طفیل جنت تک بھی پہنچائے گا۔عباسی دور کے ایک عرب شاعر ابو العتاھیہ نے کیا خوب کہا ہے۔

وَمَا الدَّھرُ إِلَّا جَامِعٌ وَمُفَرِّقٌ

وَمَا النَّاسُ إِلَّا رَاحِلٌ وَمُوَدِّعٌ

فاِنْ نَحْنُ عِشْنَا يَجْمَعُ اللَہُ شَمْلَنَا

وَإِنْ نَحْنُ مُتْنَا فَالْقِيَامَۃُ تَجْمَعُ

ترجمہ

اور زمانہ لوگوں کو جمع کرنے اور الگ کرنے کے سوا کچھ نہیں،

اور لوگ اس دنیا سے کوچ کرنے والے اور الوداع کہنے والے کے سوا کچھ نہیں۔

اگر ہم زندہ رہے تو اللہ ہمیں دوبارہ اکٹھا کر دے گا،

اور اگر ہم مر گئے تو قیامت کے دن ہم سب کا اجتماع ہوگا

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۶ ستمبر ۲۰۲۶ ، اتوار

OIAS Logo

Online Institute of Arabic Studies

Pioneering Arabic Excellence Since 2005

Learn More